We are apologize for the inconvenience but you need to download
more modern browser in order to be able to browse our page

Download Safari
Download Safari
Download Chrome
Download Chrome
Download Firefox
Download Firefox
Download IE 10+
Download IE 10+

۱۹۷۳؁ بودشیشی خانقاہ سے روانگی

امام عبد السلام یاسینؒ چھ سال تک قادری بودشیشی خانقاہ میں اپنے مرشد الحاج العباس بن مختا راور ان کے بعد ان کے فرزند شیخ حمزہ کے ساتھ رہے،جسے انہوں نے بعض اسباب کی بنا پر چھوڑ دیاجنہیں بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: ﴿وَكُنْت عليهم شهيدا﴾ ‘‘میں جب تک ان کے درمیان رہا ان کے اعمال پر شاہد رہا’’، میں اس جملہ کے ذریعہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے جملہ سے استشہاد کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے کہا تھا: ﴿وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم وأنت على كل شيء شهيد﴾ ‘‘میں جب تک ان کے درمیان رہا ان کے اعمال پر شاہد رہا ،پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کے اعمال سے باخبر رہا’’، مریدین سے میرا تعلق محبانہ تھا ، لوگوں کے دل صاف تھے، اور وہ اچھے لوگ تھے، لیکن جو چیز سالکین کے لئے خطرناک ثابت ہوتی ہے وہ احوال و مشاہدات اور کرامات کا ظہور ہے ،اولیائے کاملین ہمیشہ ان چیزوں سے متنبہ کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ :یہ چیزیں اللہ عزو جل سے غافل کرتی ہیں ، اور راہ سلوک میں حائل ہوتی ہیں، بعض مریدین کے سامنے کچھ مکاشفات و احوال ظاہر ہوتے ہیں تو وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے راہ سلوک کو مکمل کر لیا اور میں واصلین میں سے ہو گیا ، بس پھر کیا ہے وہیں سے ان کی ترقی رک جاتی ہے ،اوردنیا اور آخرت کا نقصان ہو جاتا ہے۔